حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، باقر العلوم تحقیقی و تعلیمی ادارہ کرگل کے زیرِ اہتمام ’’صدائے زینبؑ‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی بے مثال علمی، فکری اور روحانی شخصیت، آپؑ کی عظیم قربانیوں، صبر، استقامت، شجاعت اور پیغامِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
نشست میں علماء، دانشوروں، ادباء، شعراء، طلباء اور محبانِ اہل بیت علیہم السلام نے شرکت کی اور مقالات، اشعار اور منقبت کے ذریعے دخترِ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، حضرت زینب کبریٰؑ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پروگرام میں طرحی مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا، جس کا مصرعِ طرح ’’بیٹی علی کی فاتحِ دربارِ شام ہے‘‘ تھا۔ شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینبؑ کے تاریخی کردار، آپؑ کی بے مثال جرأت، خطابت اور استقامت کو اجاگر کیا۔
طرحی مشاعرے میں علی اصغر رنچن، غلام رضا بلتی، اشرف علی ساگر، رضا امجد بدگامی اور یاسین انصاری نے اپنا کلام پیش کیا۔
علمی نشست میں تقی خان نایاب، سید ہادی شاہ، پروفیسر ناصر شعبانی اور انجینئر حاجی حسین نے مقالات پیش کیے اور حضرت زینبؑ کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف علمی، تاریخی، فکری اور روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی طاہر حسین زبداوی نے اپنے خطاب میں حضرت زینب کبریٰؑ کی حیاتِ طیبہ، مصائب، قربانیوں اور عظیم استقامت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سانحۂ کربلا کے بعد حضرت زینبؑ نے جس شجاعت، بصیرت اور فصاحت کے ساتھ پیغامِ عاشورا کو آگے بڑھایا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی زندگی آج کے دور میں بھی ہمارے لیے صبر، ایمان، حق گوئی، عزت و وقار، شجاعت اور ظلم کے خلاف استقامت کا درس ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین حضرت زینبؑ کی سیرت سے بے شمار رہنمائی حاصل کرسکتی ہیں۔
طاہر حسین زبداوی نے باقر العلوم تحقیقی و تعلیمی ادارہ کی جانب سے اس طرح کی علمی و فکری نشستوں کے انعقاد کو سراہا اور ڈاکٹر شیخ حسنیاں مفسری کی اسلامی تحقیق و مطالعہ کے میدان میں مثبت اور تعمیری خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں اس طرح کے علمی سیمینار اور کانفرنسیں نہایت اہم ہیں، تاکہ نوجوان نسل تک مستند اسلامی تعلیمات، تاریخِ اہل بیتؑ اور پیغامِ کربلا کو مؤثر اور علمی انداز میں پہنچایا جاسکے۔
معروف مورخ و دانشور ماسٹر صادق ہرداسی نے پروگرام کی نظامت انتہائی خوبصورت، مؤثر اور علمی انداز میں انجام دی اور مختلف نشستوں کو تاریخی و فکری تناظر میں باہم مربوط کیا۔
اس موقع پر گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی پہلی کانفرنس، جو شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی، میں پیش کیے گئے مقالات پر مشتمل کتاب ’’حکیمِ امت‘‘ کی بھی رسمِ رونمائی کی گئی۔

تقریب میں نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیے گئے کتاب خوانی مقابلے کے نتائج کا بھی اعلان کیا گیا۔
مقابلے میں مجموعی طور پر 69 نوجوانوں نے حصہ لیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 9 طلباء کو اعزازات سے نوازا گیا۔
آخر میں حاجی عنایت اللہ راہی نے خطبۂ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، علماء، شعراء، دانشوروں، طلباء، شرکاء اور پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مکتبِ اہل بیتؑ، پیغامِ عاشوراء اور سیرتِ حضرت زینب کبریٰؑ کو علمی و تحقیقی انداز میں نئی نسل تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، کیونکہ کربلا کے بعد پیغامِ حسینؑ کو زندہ رکھنے میں حضرت زینبؑ کا کردار تاریخِ انسانیت کے لیے حق، صداقت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال مثال ہے۔









آپ کا تبصرہ